پاکستان کے شمالی مغربی شہرڈیرہ اسماعیل خان کے ڈسٹرکٹ ہسپتال میں منگل کی دوپہر ہونے والے ایک مشتبہ خود کش حملے میں کم از کم 23افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق منگل کی صبح شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والے ایک مقامی رہنماء کو نامعلوم افراد نے ہلاک کردیا تھا جس کی لاش ہسپتال لائی گئی اورمیت کے ساتھ آنے والے درجنوں سوگوار ہسپتال کے احاطے میں اس واقعے پر سراپا احتجاج تھے جب خودکش حملہ آور نے اپنے آپ کو دھماکے سے اڑادیا۔اس دھماکے میں درجنوں افراد زخمی بھی ہوئے ہیں جن میں بعض کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے۔
ادھر افغان سرحد سے ملحقہ باجوڑ ایجنسی کے پولیٹیکل ایجنٹ محمد جمیل نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ گذشتہ شب ناواگئی کے علاقے میں سیکیورٹی فورسز اور عسکریت پسندوں کے درمیان جھڑپ میں 20کے لگ بھگ عسکریت پسند مارے گئے ہیں جبکہ سیکیورٹی فورسز کے پانچ اہلکار بھی ہلاک ہوئے ۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ باجوڑ کے مرکزی قصبے خار کے گردو نواح میں طالبان عسکریت پسندوں کی پوزیشنیں کمزور ہوگئی ہیں اور ان کے حوصلے بھی پست معلوم ہوتے ہیں۔
طالبان کے ذرائع کا کہنا ہے کہ گذشتہ شب لڑائی میں ہلاک ہونے والوں میں سے پانچ عسکریت پسندوں کی لاشیں تدفین کے لیے مہمند ایجنسی لائی گئی ہیں۔گذشتہ ہفتے گورنر سرحد اویس غنی نے صحافیوں کو بتایا تھا کہ باجوڑ میں جاری جھڑپوں میں اب تک 462عسکریت پسند مارے جاچکے ہیں۔
حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ باجوڑ میں سرکاری فوجوں کے خلاف مزاحمت کرنے والے عسکریت پسندوں کی تعداد تین ہزار سے زائد ہے اور ان میں اکثریت غیر ملکی جنگجوؤں کی ہے۔حکام کے بقول تقریباًتمام قبائلی ایجنسیوں سے عسکریت پسند باجوڑ میں اکٹھے ہوئے ہیں لیکن طالبان کے ترجمان مولوی عمر نے حکومت کے اس دعوے کو مسترد کیا ہے کہ علاقے میں غیر ملکی عسکریت پسند موجود ہیں۔
باجوڑ ایجنسی میں جاری جھڑپوں کے باعث تقریباً دو لاکھ مقامی لوگ نقل مکانی کرکے صوبہ سرحد کے مختلف بندوبستی علاقوں میں قائم کیمپوں میں پناہ لینے پر مجبور ہوگئے ہیں۔