پارلیمان کا بندکمرے میں ہونے والامشترکہ اجلاس پیر13 اکتوبر تک ملتوی کر دیا گیا ہے۔اراکین پارلیمان کو ملک کی مجموعی سلامتی کی صورت حال سے آگاہ کرنے کے لیے جمعرات کواجلاس دوسرے روزبھی جاری رہا۔ ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنزجو پاکستان کی جاسو س ادارے آئی ایس آئی کے نامزد سربراہ بھی ہیں، نے ایوان میں موجود سیاسی پارٹیوں کے سربراہوں کے ملکی سلامتی کے حوالے سے سوالات کے جوابات دیئے۔ اس سے قبل بدھ کواجلاس کے پہلے روز اراکین پارلیمان کو جنرل احمد شجاع پاشانے تصاویر اور اعداد شمار کی مدد سے اراکین کو سلامتی کی مجموعی صورت حال بالخصوص قبائلی علاقوں کے فوجی آپریشن کے بارے میں بریفنگ دی تھی۔
اجلاس میں شریک جماعت اسلامی کے سرکردہ رہنما اورسینیٹر پروفیسر خورشید احمدنے وائس آف امریکہ کو بتا یا کہ جمعرات کو بند کمرے میں ہونے والا یہ اجلاس تقریبا سوا چار گھنٹے جاری رہا جس میں جنرل پاشا نے ایوان میں موجود تمام سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کے سوالات کے جوابات دیئے۔تاہم پروفیسر خورشید نے کہاکہ اجلاس کی بحث کا مرکزی نکتہ صرف فوجی آپریش تھا جبکہ سیکورٹی کے باقی پہلو سامنے نہیں آئے اور پروفیسر خورشید کے بقول ان جماعت اور مسلم لیگ ن اور ق نے مطالبہ کیا کہ وزارت داخلہ، وزارت خارجہ کی جانب سے بھی ایوان کو دہشت گردی سے متعلق بریفنگ دی جانی چاہیے۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ یہ خصوصی اجلاس مزید تین سے چار روز تک جاری رہ سکتا ہے۔ اجلاس کے پہلے روز آغاز سے قبل سپیکر قومی اسمبلی فہمید ہ مرزا نے پارلیمان میں موجودہ تمام حاضرین سے حلف لیا کہ وہ اس اجلاس کی کارروائی کی رازداری رکھیں گے اور اسی حلف رازداری کی بنیاد پر اراکین پارلیمان اس خصوصی اجلاس کی کارروائی بتانے سے گریزاں ہیں۔
اس خصوصی اجلاس کے موقع پر اسلام آباد میں بالعموم اور پارلیمنٹ ہاؤس کے اردگرد کے علاقے کو ریڈ زون قرار دے کر بالخصوص سیکورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ پارلیمنٹ کی جانب جانے والے تمام راستوں کی مکمل ناکہ بندی کی گئی ہے اور اراکین پارلیمنٹ اور متعلقہ حکام کے علاوہ کسی کو اس طرف جانے کی اجازت نہیں ہے جبکہ ہیلی کاپٹروں کی مدد دے فضائی نگرانی کا جا رہی ہے۔ واضح رہے کہ صدر آصف علی زرداری کی ہدایت پر یہ خصوصی اجلاس بلایا گیا ہے۔