جمعرات کو ملک بھر میں وکلاء تنظیمیں عدلیہ کی آزادی اور معزول ججوں کی بحالی کے لیے عدالتوں کا بائیکاٹ اور احتجاج گذشتہ سال سے کرتی آرہی ہیں۔ عدالتی بائیکاٹ سے لے کر لانگ مارچ تک وکلاء کی تنقید اور غصے کا نشانہ عدالتی بحران کے خالق سابق صدر پرویز مشرف رہے۔ انتخابات کے نتیجے میں پیپلز پارٹی کی سربراہی میں بننے والی مخلوط حکومت سے توقع کی جارہی تھی کہ وہ معزول ججوں کو فوری بحال کردی گی لیکن کئی ماہ گزرنے کے باوجود عدلیہ کی آزادی کا مقدمہ دیگر مسائل کی فائلوں کے انبار کے ساتھ ایک طرف پڑا نظر آتا ہے۔
ججوں کی معزولی ، مہنگائی ، لاقانونیت، توانائی کی کمی اور معیشت کی بدحالی کے ذمہ دار ٹھہرائے جانے والے کردار صدر مشرف 18اگست کو مستعفی ہوگئے۔ ججوں کی بحالی کے معاملے کو لے کر حکمران اتحاد کی دوسری بڑی سیاسی جماعت مسلم لیگ (ن) اتحاد سے علیحدہ ہوگئی اور اسی اثناء میں نئے صدر کے انتخاب کے لیے شیڈول جاری کردیاگیا۔کل کے اتحادیوں کی طرف سے ایک دوسرے کے مخالف صدارتی امیدوار نامزد کردیے گئے۔
حکومت نے سندھ ہائی کورٹ کے آٹھ ججوں کا دوبارہ تقرر کردیا او ر اب کہا جارہا ہے کہ معزول جج اگر چاہیں تو حلف لے کر اپنے عہدوں پر واپس آسکتے ہیں لیکن وکلاء برادری اس سارے عمل کو تسلیم کرنے سے انکاری ہے۔ وکلاء رہنماؤں کی طرف سے معزول ججوں کی بحالی تک ہفتے کے ایک دن ملک کے تمام شہروں میں مرکزی شاہراہوں پر دھرنا دے کر دو گھنٹوں کے لیے نظام آمدورفت معطل کرنے کا اعلان ہوچکا ہے۔
جمعرات کو دیے جانے والے دھرنے میں مطالبہ تو وہی دہرایا گیا لیکن ایک نعرہ تھوڑی سی ردوبدل کے ساتھ گونجتا رہا۔ ایسے میں جب صدارتی انتخاب میں کچھ ہی دن باقی ہیں ملک کی ایک بڑی سیاسی جماعت کے صدارتی امیدوار کے خلاف وکلاء برادری کی طرف سے کی جانے والی نعرہ بازی باعث تعجب و دلچسپی ہے۔ گذشتہ سال وکلاء ”گو مشرف گو“ کے نعرے لگاتے تھے اور آج ”گو زرداری گو“ کی صدائے احتجاج بلند ہو رہی ہے۔