 |
| مسلم لیگ ن کے سربراہ نواز شریف |
پاکستان مسلم لیگ ن کے سربراہ نواز شریف نے جنوبی او روسطی ایشیا کے لیے امریکہ کے نائب وزیرخارجہ رچرڈ باؤچر سے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کی حکومت نے ان کی جماعت مسلم لیگ ن کو عسکریت پسندوں کے ساتھ طے پانے والے معاہدوں اور خیبر ایجنسی میں شروع کیے گئے آپریشن کے حوالے سے اعتماد میں نہیں لیاہے اور اس تمام پالیسی پر ان کی جماعت کو سخت تحفظات ہیں۔
نواز شریف اور باؤچر کے درمیان منگل کو رائے ونڈ میں ہونے والی ملاقات کے بعد تفصیلات سے ذرائع ابلاغ کو آگاہ کرتے ہوئے پارٹی کے سینئر رہنماء چوہدری نثار علی خان نے بتایا کہ مسلم لیگ ن کی قیادت نے اعلیٰ امریکی عہدیدار پر واضح کیا ہے کہ اپنی ایک بڑی اتحادی جماعت کو اعتماد لیے بغیر اور پارلیمان سے بالاتر فیصلوں کی وجہ سے گذشتہ آٹھ سالوں کے دوران پاکستان میں امن و امان کی صورتحال خراب سے خراب تک ہوتی گئی ہے اور موجودہ حکومت نے بھی اگر یہی طرز حکمرانی اپنایا تو حالت مزید خراب ہوں گے۔
نثار علی خان نے کہا کہ جب بھی کوئی اعلیٰ امریکی عہدیدار پاکستان کے دورے پر آیا ہے تو صدر مرف نے ان کو اس طرح کی فوجی کاروائیاں اور اپنے لوگوں کی لاشیں پیش کرکے ان کا خیر مقدم کیا اور ضرورت اس امر کی ہے کہ موجودہ حکومت از سر نو اس پالیسی کا جائزہ لے۔ انہوں نے کہا کہ تین دن گزر جانے کے بعد بھی خیبر ایجنسی میں کئے جانے والے آپریشن کے دوران مبینہ عسکریت پسندوں کے ساتھ کوئی بڑی جھڑپ نہیں ہوئی جس کی وجہ سے اس تمام کاروائی کے حوالے سے لوگوں میں شکوک وشبہات اور کئی سوالات نے جنم لیا ہے۔
 |
| رچرڈ باؤچر |
واضح رہے کہ رچرڈ باؤچر نے پیر کو اسلام آباد میں وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی اور وفاقی وزارت داخلہ کے سربراہ رحمن ملک سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کی تھیں جس میں علاقائی سلامتی کی صورتحال اور خیبر ایجنسی کے آپریشن پر بات چیت کی گئی۔