 |
| قومی اسمبلی |
پاکستان کے آئین کے مطابق صدر مملکت کا نتخاب قومی اسمبلی، سینٹ اور چاروں صوبائی اسمبلیوں کے ارکان پانچ سال کی مدت کے لیے کرتے ہیں۔ چیف الیکشن کمشنر پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں کے خصوصی اجلاسوں میں صدر کا انتخاب منعقد کراتے ہیں جو خفیہ رائے شماری کے ذریعے عمل میں آتا ہے ۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے حکمران اتحاد سے الگ ہونے کے بعد پیپلز پارٹی قومی اسمبلی میں دو تہائی اکثریت کھو چکی ہے اور اب اسے 342ارکان کے ایوان میں سادہ اکثریت بھی حاصل نہیں ہے۔ قومی اسمبلی میں پیپلز پارٹی کو125اور اس کی اتحادی جماعت عوامی نیشنل پارٹی اور جمعیت علماء اسلام (ف) کو بالترتیب 13اور سات نشستیں حاصل ہیں۔ مسلم لیگ کو 91اور مسلم لیگ (ق)کو 54نشستیں حاصل ہیں تاہم مسلم لیگ (ق)کے کئی ارکان اپنی پارٹی کی قیادت سے اختلاف کرتے ہوئے ایک فارورڈبلاک تشکیل دے چکے ہیں۔متحدہ قومی موومنٹ کی ایوان میں 25نشستیں ہیں اور یہ جماعت پہلے ہی پیپلز پارٹی کے صدارتی امیدوار آصف زرداری کی حمایت کا واضح طور پر اعلان کرچکی ہے۔ قومی اسمبلی میں آزاد اراکین کی تعداد 17ہے۔
دوسری طرف 100ارکان پر مشتمل سینٹ میں پاکستان مسلم لیگ (ق) 38نشستوں کے ساتھ اگرچہ اکثریت کی دعویدار ہے لیکن سینٹ میں بھی اس جماعت کے کئی ارکان کا فارورڈ بلاک تشکیل پاچکا ہے ۔ پیپلز پارٹی کی 10متحدہ قومی موومنٹ کی چھ ، عوامی نیشنل پارٹی کی دو، جمعیت علماء اسلام (ف) کی 12اور ،مسلم لیگ (ن) کی چار نشستیں ہیں۔ سینٹ میں آزاد ارکان کی تعداد 12ہے۔
پنجاب اسمبلی میں مسلم لیگ (ن) کی سب سے زیادہ یعنی170نشستیں ہیں تاہم اسے سادہ اکثریت حاصل نہیں ۔ پیپلز پارٹی کی 107 جبکہ مسلم لیگ (ق) کی 84نشستیں ہیں البتہ (ق) لیگ میں ایک ہم خیال گروپ بھی موجود ہے اور صدارتی انتخاب میں اس کے ارکان کی حمایت حاصل کرنے کے لیے سیاسی لابنگ جاری ہے۔
سندھ اسمبلی میں پیپلز پارٹی کو 93ارکان کے ساتھ سادہ اکثریت حاصل ہے جبکہ اس کی اتحادی جماعت متحدہ قومی موومنٹ کو 51نشستیں حاصل ہیں ۔ سندھ میں مسلم لیگ (ق) کو 9اور مسلم لیگ فنکشنل کے آٹھ ارکان ہیں۔
ادھر سرحد اسمبلی میں اکثریتی جماعت عوامی نیشنل پارٹی کے 48ارکان ہیں جسے اتحادی جماعت پیپلز پارٹی کے 30اور ایم کیو ایم کے 14ارکان کے ساتھ مل کر دوتہائی اکثریت حاصل ہے۔ واضح رہے کہ عوامی نیشنل پارٹی بھی آصف زرداری کی بطور صدر حمایت کا اعلان کرچکی ہے۔
بلوچستان اسمبلی میں مسلم لیگ (ق) 19نشستوں کے ساتھ اکثریتی جماعت بن کر ابھری تھی تاہم بعد ازاں اس میں دس سے بارہ ارکان کا ایک ہم خیال گروپ تشکیل پاگیا۔ ایوان میں اس وقت پیپلز پارٹی کے 12اور متحدہ مجلس عمل کے دس ارکان ہیں جبکہ آزاد ارکان کی تعداد 12ہے۔ صوبائی وزیر اعلیٰ نواب اسلم خان رئیسانی کا دعویٰ ہے کہ (ق) لیگ کے ہم خیال ارکان سمیت تمام اتحادی جماعتوں کے ارکان آصف زرداری کے بطور صدر انتخاب کے حق میں ہیں۔