Urdu ▪ وائس آف امریکہ
غیر جانبدار خبریں  |  دلچسپ معلومات

صرف متن
Search

صدر کا انتخابی طریقہ کار اور پارٹی پوزیشن


August 28, 2008

National Assembly-Floor of the House-Islamabad-Pakistan

قومی اسمبلی

پاکستان کے آئین کے مطابق صدر مملکت کا نتخاب قومی اسمبلی، سینٹ اور چاروں صوبائی اسمبلیوں کے ارکان پانچ سال کی مدت کے لیے کرتے ہیں۔ چیف الیکشن کمشنر پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں کے خصوصی اجلاسوں میں صدر کا انتخاب منعقد کراتے ہیں جو خفیہ رائے شماری کے ذریعے عمل میں آتا ہے ۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے حکمران اتحاد سے الگ ہونے کے بعد پیپلز پارٹی قومی اسمبلی میں دو تہائی اکثریت کھو چکی ہے اور اب اسے 342ارکان کے ایوان میں سادہ اکثریت بھی حاصل نہیں ہے۔

قومی اسمبلی میں پیپلز پارٹی کو125اور اس کی اتحادی جماعت عوامی نیشنل پارٹی اور جمعیت علماء اسلام (ف) کو بالترتیب 13اور سات نشستیں حاصل ہیں۔ مسلم لیگ کو 91اور مسلم لیگ (ق)کو 54نشستیں حاصل ہیں تاہم مسلم لیگ (ق)کے کئی ارکان اپنی پارٹی کی قیادت سے اختلاف کرتے ہوئے ایک فارورڈبلاک تشکیل دے چکے ہیں۔متحدہ قومی موومنٹ کی ایوان میں 25نشستیں ہیں اور یہ جماعت پہلے ہی پیپلز پارٹی کے صدارتی امیدوار آصف زرداری کی حمایت کا واضح طور پر اعلان کرچکی ہے۔ قومی اسمبلی میں آزاد اراکین کی تعداد 17ہے۔

دوسری طرف 100ارکان پر مشتمل سینٹ میں پاکستان مسلم لیگ (ق) 38نشستوں کے ساتھ اگرچہ اکثریت کی دعویدار ہے لیکن سینٹ میں بھی اس جماعت کے کئی ارکان کا فارورڈ بلاک تشکیل پاچکا ہے ۔ پیپلز پارٹی کی 10متحدہ قومی موومنٹ کی چھ ، عوامی نیشنل پارٹی کی دو، جمعیت علماء اسلام (ف) کی 12اور ،مسلم لیگ (ن) کی چار نشستیں ہیں۔ سینٹ میں آزاد ارکان کی تعداد 12ہے۔

پنجاب اسمبلی میں مسلم لیگ (ن) کی سب سے زیادہ یعنی170نشستیں ہیں تاہم اسے سادہ اکثریت حاصل نہیں ۔ پیپلز پارٹی کی 107 جبکہ مسلم لیگ (ق) کی 84نشستیں ہیں البتہ (ق) لیگ میں ایک ہم خیال گروپ بھی موجود ہے اور صدارتی انتخاب میں اس کے ارکان کی حمایت حاصل کرنے کے لیے سیاسی لابنگ جاری ہے۔

سندھ اسمبلی میں پیپلز پارٹی کو 93ارکان کے ساتھ سادہ اکثریت حاصل ہے جبکہ اس کی اتحادی جماعت متحدہ قومی موومنٹ کو 51نشستیں حاصل ہیں ۔ سندھ میں مسلم لیگ (ق) کو 9اور مسلم لیگ فنکشنل کے آٹھ ارکان ہیں۔

ادھر سرحد اسمبلی میں اکثریتی جماعت عوامی نیشنل پارٹی کے 48ارکان ہیں جسے اتحادی جماعت پیپلز پارٹی کے 30اور ایم کیو ایم کے 14ارکان کے ساتھ مل کر دوتہائی اکثریت حاصل ہے۔ واضح رہے کہ عوامی نیشنل پارٹی بھی آصف زرداری کی بطور صدر حمایت کا اعلان کرچکی ہے۔

بلوچستان اسمبلی میں مسلم لیگ (ق) 19نشستوں کے ساتھ اکثریتی جماعت بن کر ابھری تھی تاہم بعد ازاں اس میں دس سے بارہ ارکان کا ایک ہم خیال گروپ تشکیل پاگیا۔ ایوان میں اس وقت پیپلز پارٹی کے 12اور متحدہ مجلس عمل کے دس ارکان ہیں جبکہ آزاد ارکان کی تعداد 12ہے۔ صوبائی وزیر اعلیٰ نواب اسلم خان رئیسانی کا دعویٰ ہے کہ (ق) لیگ کے ہم خیال ارکان سمیت تمام اتحادی جماعتوں کے ارکان آصف زرداری کے بطور صدر انتخاب کے حق میں ہیں۔ 

emailme.gif اس صفحے کو ای میل کیجیے
printerfriendly.gif قابل چھپائی صفحہ

  اہم ترین خبر
ترکی میں سہ فریقی سربراہ اجلاس

  مزید خبریں
کشیدگی میں اضافے سے بھارتی فلم ڈسٹری بیوٹرز پریشان
دہشت گرد دنیا کے کسی ملک کو بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کانشانہ بنا سکتے ہیں: رپورٹ  Video clip available
آئی ایم ایف کا قرضہ پرانے قرضے چکانے کے لیے استعمال ہوگا  Video clip available
صوفیانہ شاعر ی میں نسوانی آوازیں  Video clip available
ممکنہ فضائی حملوں کی دھمکی کے بعد بھارتی ہوائی اڈوں پر ہائی الرٹ
ممبئی حملوں سے لشکرِ طیبہ کا کوئی تعلق نہیں: حافظ سعید کے ترجمان کا بیان
مہاراشٹر کے وزیرِ اعلیٰ نے ممبئی حملوں کی اخلاقی ذمے داری قبول کرتے ہوئے استعفیٰ دے دیا
پی سی بی میں بڑے پیمانے پر اصلاحات کا اعلان
بابری مسجد کی شہادت کی یاد میں
بانی ... نئی غزل کی منفرد آواز
امریکی فوجیں مزید تین سال تک عراق میں رہی گی
بنگلہ دیشی مصوروں کی نمائش، پریشانی میں سکون
یورپی بینکوں نے شرحِ سُود کم کردی
امریکہ کے ساتھ مثبت تعلقات کی اُمید ہے: پُوتن
زمبابوے میں ہیضے کی وبا اور حفظانِ صحت کے نظام کا خاتمہ
امریکا اپنی معیشت کو مستحکم بنائے: چین
بھارتی لوگوں کے رویے میں تبدیلی نہیں آئی: ممبئی سے واپس آنے والے پاکستانی فنکار    
سعودی عرب میں حج کے لیے زبردست حفاظتی انتظامات
بھارت کو دہشت گردی کے خلاف روسی مدد کی پیش کش
بھارت نوجوان نسل کو تعلیم اور تربیت فراہم کرے: رپورٹ
امریکی کار ساز کمپنیاں حکومت سے امداد کی منتظر ہیں
رفعت سروش کے انتقال کے ساتھ ترقی پسند ادب کے ایک عہد کا خاتمہ
افغانستان کے مستقبل کے بارے میں اقوامِٕ متحدہ کے مشن کی محتاط رائے  
”پاکستانی قیادت کے ذمہ دارانہ اور تسلی بخش دلائل“  Video clip available
”ممبئی حملوں اور پاکستانی تنظیموں کے مابین تعلق کی تحقیقات کی جائیں“
”زرداری نے یقین دلایا ہے کہ شواہد ملے تو کارروائی کریں گے“
کیا امریکہ 1930 کی کساد بازاری کی طرف بڑھ رہاہے؟  Video clip available
اوباما نے نیو میکسیکو کے  گورنر بل رچرڈ سن کو اپنی اقتصادی ٹیم میں شامل کرلیا  Video clip available
ممبئی حملے: حکومت کے خلاف عوامی برہمی میں اضافہ
اقتصادی بحران کےجلد خاتمے کے لیے  کوشش کریں گے : اوباما
ملکہ برطانیہ کا پارلیمنٹ سے خطاب: معیشت  کی بحالی سرفہرست
بان کی مون کا صدر زرداری کو فون
آدھی رات کا سورج ۔۔۔ بارھویں قسط: خوابوں خیالوں کا شہر
’پانچ سال کے اندر دنیا میں دہشت گردوں کی طرف سے بڑے حملے کا خدشہ‘
اسرائیل نے غرب ِ اردن میں پولیس بھیج دی
برما : سیاسی قیدی دور دراز جیلوں میں منتقل
افغانستان: 13 عسکریت پسند ہلاک
بنکاک: مظاہروں کے بعد پہلی پرواز  کی آمد
زمبابوے: پولیس نے دو مظاہرے منشتر کردیے
جاپان: شہنشاہ آکی ہیتو علیل، سرکاری مصروفیات منسوخ
بھارت کا گیارہ ستمبر؟
چین: نرسنگ ہوم میں آتش زدگی، 7 افراد ہلاک
فلپائن: باغیوں کے حملے میں پانچ فوجی ہلاک