قبائلی پٹی درہ آدم خیل میں پشاور کو صوبہ سرحد کے جنوبی اضلاع سے ملانے والی کوہاٹ ٹنل کے قریب جمعہ کی صبح نامعلوم خودکش حملہ آور نے بارود سے بھری گاڑی سیکیورٹی فورسز کی ایک عمارت سے ٹکرائی ۔ اس حملے کے نتیجے میں سیکیورٹی فورسز کے اہلکاروں اور سویلین ملازمین سمیت 30سے زائد افراد زخمی ہوگئے جن میں سے دو افراد زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہسپتال پہنچ کر دم توڑ گئے۔
اسی دوران ایک اور خودکش حملہ آورنے بارود بھری گاڑی کو سرنگ کے اندر لے جانے کی کوشش کی تاہم سیکیورٹی اہلکاروں نے فائرنگ کر کے اسے تباہ کردیا۔درہ آدم خیل کے علاقے شیراکئی میں سیکیورٹی فورسز اور طالبان جنگجوؤں کے درمیان جھڑپیں ہوئی ہیں۔ طالبان نے انڈس ہائی وے پر واقع ایک پل کو بھی دھماکے سے اڑا دیا ہے۔تشد دکے ان واقعات کے بعد حکام نے کوہاٹ ٹنل کو ہر قسم کی آمدورفت کے لیے بند کردیا ہے۔
ادھر جنوبی وزیرستان میں تشدد کے واقعات پر قابو پانے کے لیے انتظامیہ اور قبائلی رہنماؤں کے درمیان کامیاب مذاکرات کے بعد گرفتار کیے گئے 15طالبان کو رہا کردیا گیا ہے۔
باجوڑ ایجنسی کے سالارزئی علاقے میں مقامی قبائلیوں نے طالبان کو علاقے سے نکالنے کے بعد مورچے بنانا شروع کردیئے ہیں۔